حوزہ نیوز ایجنسی | یہ ایک مسلم حقیقت ہے کہ زمین کبھی بھی حجّتِ الٰہی سے خالی نہیں رہتی۔ ہر دور میں ایک معصوم ہستی لوگوں کے درمیان موجود رہی ہے تاکہ احکامِ الٰہی کی تبیین اور اتمامِ حجّت کا فریضہ انجام دے۔ اگرچہ غیبت کے دور میں حضرت امام مہدی علیہ السلام ظاہری طور پر لوگوں کی نگاہ سے اوجھل ہیں، تاہم آپ کی برکات اور عنایات مسلسل اہلِ ایمان تک پہنچتی رہتی ہیں۔
غیبت کے زمانے میں مسائل کے حل اور فکری و اعتقادی شبہات کے ازالے کے لیے جن اہم ذرائع سے استفادہ کیا گیا، ان میں حضرت کی توقیعات نمایاں حیثیت رکھتی ہیں۔
توقیع کیا ہے؟
لغوی اعتبار سے توقیع کے معنی حاشیہ نویسی کے ہیں، جبکہ اصطلاح میں یہ وہ تحریری احکام اور خطوط ہیں جو حضرت امام مہدی علیہ السلام کی جانب سے زمانۂ غیبت میں اپنے شیعوں کو ارسال کیے گئے۔ شیعہ علمی مصادر میں توقیعات سے مراد یہی مقدس خطوط ہیں۔
توقیعات کی اقسام
حضرت امام مہدی علیہ السلام کی توقیعات کو دو ادوار میں تقسیم کیا جاتا ہے:
۱۔ غیبتِ صغریٰ کی توقیعات
غیبتِ صغریٰ کے مختصر دور میں چار مخصوص نائبین — عثمان بن سعید، محمد بن عثمان، حسین بن روح اور علی بن محمد سمری — کے ذریعے شیعوں کے سوالات اور شبہات کے جوابات میں توقیعات صادر ہوئیں۔ ان توقیعات کا بنیادی مقصد شیعوں کی دینی ذمہ داریوں کی وضاحت اور فکری سرگردانی کا خاتمہ تھا۔
۲۔ غیبتِ کبریٰ کی توقیعات
غیبتِ کبریٰ میں حضرت مہدی علیہ السلام سے رابطہ براہِ راست نہیں رہا، تاہم بعض مواقع پر خواص اور بزرگ علما تک توقیعات پہنچتی رہیں۔ ان توقیعات کی دو نمایاں خصوصیات بیان کی گئی ہیں:
یہ خطوط عمومی طور پر افشا نہیں کیے جاتے تھے، مگر شدید ضرورت کے وقت ہی ظاہر کیے جاتے۔
ان میں عقیدتی شبہات کے جوابات، شخصیات کا تعارف، حالاتِ حاضرہ کا تجزیہ اور دینی رہنمائی شامل ہوتی تھی۔
کیا توقیعات حضرت کے اپنے دستِ مبارک سے تھیں؟
علما کے درمیان اس حوالے سے مختلف آرا پائی جاتی ہیں۔ بعض شواہد کے مطابق بعض توقیعات حضرت مہدی علیہ السلام کے اپنے دستِ مبارک سے تحریر شدہ تھیں اور آپ کی خطاطی خواص کے درمیان معروف تھی، جبکہ دیگر قرائن کے مطابق بعض توقیعات وہی خط تھیں جو امام حسن عسکری علیہ السلام کے زمانے میں رائج تھیں اور نائبین کے ذریعے جاری کی جاتی تھیں۔
توقیعات کے مضامین
توقیعاتِ مقدسہ میں مختلف اہم موضوعات پر رہنمائی ملتی ہے، جن میں نمایاں نکات یہ ہیں:
غیبتِ کبریٰ اور ظہور کی نشانیاں
حضرت امام مہدی عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف نے اپنے آخری نائب حضرت علی بن محمد سمری کے نام صادر ہونے والے توقیع میں فرمایا:
«فَقَدْ وَقَعَتِ الْغَیْبَةُ الثَّانِیَةُ فَلَا ظُهُورَ إِلَّا بَعْدَ إِذْنِ اللَّهِ عَزَّ وَ جَلَّ وَ ذَلِکَ بَعْدَ طُولِ الْأَمَدِ وَ قَسْوَةِ الْقُلُوبِ وَ امْتِلَاءِ الْأَرْضِ جَوْراً.»
(کمال الدین، ج۲، ص۵۱۶)
ترجمہ: "اب غیبتِ کبریٰ کا آغاز ہو چکا ہے اور ظہور صرف اللہ تعالیٰ کے اذن سے ہوگا، جب ایک طویل مدت گزر جائے گی، لوگوں کے دل سخت ہو جائیں گے اور زمین ظلم و ستم سے بھر جائے گی۔"
شیعوں کے حالات سے مکمل آگاہی
امام علیہ السلام نے شیخ مفید رحمۃ اللہ علیہ کے نام توقیع میں فرمایا:
«فَإِنَّا یُحِیطُ عِلْمُنَا بِأَنْبَائِکُمْ... إِنَّا غَیْرُ مُهْمِلِینَ لِمُرَاعَاتِکُمْ وَ لاَ نَاسِینَ لِذِکْرِکُمْ وَ لَوْ لاَ ذَلِکَ لَنَزَلَ بِکُمُ اَللَّأْوَاءُ وَ اِصْطَلَمَکُمُ اَلْأَعْدَاءُ فَاتَّقُوا اَللَّهَ جَلَّ جَلاَلُهُ.»
(بحارالانوار، ج۵۳، ص۱۷۴)
ترجمہ: "ہم تمہارے تمام حالات اور خبروں سے پوری طرح آگاہ ہیں۔ تمہیں درپیش مشکلات اور دشمنوں کی طرف سے پہنچنے والی اذیتیں ہم سے پوشیدہ نہیں۔ ہم تمہاری نگہداشت میں کبھی کوتاہی نہیں کرتے اور نہ ہی تمہیں فراموش کرتے ہیں۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو مصیبتیں تم پر ٹوٹ پڑتیں اور دشمن تمہیں نیست و نابود کر دیتے۔ لہٰذا اللہ تعالیٰ سے تقویٰ اختیار کرو۔"
ملاقات کا جھوٹا دعویٰ کرنے والوں کی تردید
حضرت نے علی بن محمد سمری کے نام توقیع میں فرمایا:
«وَ سَیَأْتِی شِیعَتِی مَنْ یَدَّعِی اَلْمُشَاهَدَةَ أَلاَ فَمَنِ اِدَّعَی اَلْمُشَاهَدَةَ قَبْلَ خُرُوجِ اَلسُّفْیَانِیِّ وَ اَلصَّیْحَةِ فَهُوَ کَاذِبٌ مُفْتَرٍ.»
(کمال الدین، ج۲، ص۵۱۶)
ترجمہ: "عنقریب کچھ لوگ میرے شیعوں کے پاس آئیں گے جو میری ملاقات کا دعویٰ کریں گے۔ خبردار! سفیانی کے خروج اور صیحہ آسمانی سے پہلے جو شخص میری ملاقات یا خصوصی نیابت کا دعویٰ کرے، وہ جھوٹا اور بہتان باندھنے والا ہے۔"
ائمۂ اہل بیت علیہم السلام کے بارے میں شکوک کا ازالہ
بعض افراد کے شبہات کے جواب میں امام علیہ السلام نے فرمایا:
«أنه أنهی إلی ارتیاب جماعة منکم فی الدین، وما دخلهم من الشک والحیرة فی ولاة أمرهم، فغمنا ذلک لکم لا لنا، وساءنا فیکم لا فینا، لأن الله معنا.»
(الاحتجاج، ج۲، ص۲۷۸)
ترجمہ: "مجھے اطلاع ملی ہے کہ تم میں سے ایک گروہ دین اور اپنے امام کے بارے میں شک و حیرت میں مبتلا ہو گیا ہے۔ اس پر ہمیں تمہارے لیے غم ہوا، اپنے لیے نہیں، اور تمہاری حالت نے ہمیں رنجیدہ کیا، کیونکہ اللہ تعالیٰ ہمارے ساتھ ہے۔
شیخ مفید کی تعریف و توثیق
امام زمان عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف نے شیخ مفید رحمۃ اللہ علیہ کے نام توقیع میں فرمایا:
«لِلْأَخِ اَلسَّدِیدِ وَ اَلْوَلِیِّ اَلرَّشِیدِ اَلشَّیْخِ اَلْمُفِیدِ... سَلاَمٌ عَلَیْکَ أَیُّهَا اَلْوَلِیُّ اَلْمُخْلِصُ فِی اَلدِّینِ اَلْمَخْصُوصُ فِینَا بِالْیَقِینِ.»
(الاحتجاج، ج۲، ص۴۹۵)
ترجمہ: "اپنے ثابت قدم اور راہ یافتہ بھائی، شیخ مفید کے نام... سلام ہو آپ پر، اے دین میں مخلص دوست! آپ وہ ہیں جنہیں ہمارے بارے میں یقین و معرفت کی خصوصی نعمت حاصل ہے۔"
دعا اور توسل کی تعلیم
عبداللہ بن جعفر حمیری کے سوال کے جواب میں امام علیہ السلام نے فرمایا:
«...بعد صلاة اثنتی عشرة رکعة تقرأ قل هو الله أحد فی جمیعها رکعتین رکعتین ثم تصلی علی محمد وآله، وتقول قول الله جل اسمه: سلام علی آل یاسین...»
(بحارالانوار، ج۵۳، ص۱۷۴)
ترجمہ: "صاحب الزمان علیہ السلام کی بارگاہ میں توجہ کے وقت بارہ رکعت نماز (چھ دو رکعتی نمازیں) ادا کرو، ہر رکعت میں سورۂ اخلاص پڑھو، پھر محمد و آل محمد علیہم السلام پر درود بھیجو اور اس کے بعد اللہ تعالیٰ کے فرمان کے مطابق پڑھو: «سلام علی آل یاسین...»۔ یہی دعا بعد میں زیارت آل یٰسین کے نام سے مشہور ہوئی۔
تعجیلِ فرج کے لیے کثرت سے دعا
اسحاق بن یعقوب کے نام توقیع میں حضرت نے فرمایا:
«إِنِّی لَأَمَانٌ لِأَهْلِ اَلْأَرْضِ کَمَا أَنَّ اَلنُّجُومَ أَمَانٌ لِأَهْلِ اَلسَّمَاءِ فَأَغْلِقُوا بَابَ اَلسُّؤَالِ عَمَّا لاَ یَعْنِیکُمْ وَ لاَ تَتَکَلَّفُوا عِلْمَ مَا قَدْ کُفِیتُمْ وَ أَکْثِرُوا اَلدُّعَاءَ بِتَعْجِیلِ اَلْفَرَجِ فَإِنَّ ذَلِکَ فَرَجُکُمْ.»
(کمال الدین، ج۲، ص۴۸۳)
ترجمہ: "میں اہلِ زمین کے لیے باعثِ امان ہوں، جس طرح ستارے اہلِ آسمان کے لیے باعثِ امان ہیں۔ جن امور کا تم سے تعلق نہیں ان کے بارے میں سوال نہ کرو اور جس علم سے تمہیں بے نیاز کر دیا گیا ہے اس کے پیچھے خود کو مشقت میں نہ ڈالو، بلکہ تعجیلِ فرج کے لیے کثرت سے دعا کرو، کیونکہ تمہاری حقیقی نجات اور کشادگی اسی میں ہے۔"
حضرت مہدی عجلاللہتعالیفرجہالشریف نے ایک توقیع میں دعائے فرج کو ہی شیعوں کی حقیقی نجات قرار دیا ہے۔
ردِ بدعت، مخالفین کی تردید، فقہی سوالات کے جوابات، تقویٰ اور اہلِ بیت علیہم السلام سے محبت کی تاکید بھی توقیعات کے اہم مضامین میں شامل ہیں۔
جاری۔۔۔
ماخوذ از: مقالہ «ماهیتشناسی توقیعات حضرت مهدی علیہ السلام» از غلامرضا صالحی (معمولی ترمیم کے ساتھ)









آپ کا تبصرہ